🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة الزخرف
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش ! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے (1)[38]
تفسیر احسن البیان
38۔ 1 مراد مشرق اور مغرب کی دوری ہے، یہ کافر قیامت والے دن کہے گا لیکن اس دن اس اعتراف کا کیا فائدہ؟