🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة النبأ
یَوۡمَ یَقُوۡمُ الرُّوۡحُ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ؕ٭ۙ لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کھڑے ہونگے تو کوئی کلام نہ کرسکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے (1)[38]
تفسیر احسن البیان
38۔ 1 یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گے حق و صواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ اجازت صرف اس کے بارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو، یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔