تفسیر القرآن الکریم
سورة التوبة
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں درجے میں بہت بڑے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔[20]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت20) ➊ {اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا: ” هَاجَرُوْا “} یعنی اپنا دین اور جان و مال بچانے کے لیے اپنا گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔
➋ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ:} اس آیت سے مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، ابو عبیدہ بن جراح، طلحہ، زبیر اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر راضی ہو اور ہمیں ان کے ساتھ اٹھائے۔ قرآن خود ان کے آخرت میں فائز و سرخرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ انھیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی ہیں۔
➋ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ:} اس آیت سے مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، ابو عبیدہ بن جراح، طلحہ، زبیر اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر راضی ہو اور ہمیں ان کے ساتھ اٹھائے۔ قرآن خود ان کے آخرت میں فائز و سرخرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ انھیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی ہیں۔