🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة مريم
وَ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
اور بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔[36]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 36){ وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ …:} یہ گود میں عیسیٰ علیہ السلام کے کلام کا آخری حصہ اور خلاصہ ہے۔ اس کا عطف { قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ } پر ہے، یعنی انھوں نے کہا کہ بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس کے بعد اللہ کی عطا کردہ نعمتیں بیان کیں، درمیان میں { ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ } سے { كُنْ فَيَكُوْنُ } تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ معترضہ ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی اس بات { وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ …} پر ان کا کلام مکمل ہوتا ہے۔ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو ہمارا رب ہے، میری اور تمھاری پرورش کرنے والا ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔