اور بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔[36]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 36){ وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ …:} یہ گود میں عیسیٰ علیہ السلام کے کلام کا آخری حصہ اور خلاصہ ہے۔ اس کا عطف {” قَالَ اِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ “} پر ہے، یعنی انھوں نے کہا کہ بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس کے بعد اللہ کی عطا کردہ نعمتیں بیان کیں، درمیان میں {” ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ “} سے {” كُنْ فَيَكُوْنُ “} تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ معترضہ ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی اس بات {” وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ …“} پر ان کا کلام مکمل ہوتا ہے۔ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو ہمارا رب ہے، میری اور تمھاری پرورش کرنے والا ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔