🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة يس
ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۶۳﴾
یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔[63]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 64،63) {هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ …: اِصْلَوْهَا صَلِيَ يَصْلٰي } (ع) {النَّارَ} کا اصل معنی آگ سینکنا ہے۔ انھیں یہ بات بطور طنز و استہزا کہی جائے گی۔ (التحریر) اور اس حکم کے ساتھ ہی انھیں دھکیل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ سورۂ طور میں فرمایا: «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (13) هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الطور: ۱۳، ۱۴ ] جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔