🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الصافات
قَالَ تَاللّٰہِ اِنۡ کِدۡتَّ لَتُرۡدِیۡنِ ﴿ۙ۵۶﴾
کہے گا اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کر دے۔[56]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 56) ➊ {قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِ: اِنْ كِدْتَّ } اصل میں {إِنَّكَ كِدْتَّ} تھا، دلیل اس کی{ لَتُرْدِيْنِ } کا لام ہے۔ { كِدْتَّ كَادَ يَكَادُ} سے ماضی معلوم ہے۔ { لَتُرْدِيْنِ } اصل میں { لَتُرْدِيْنِيْ} تھا۔ {أَرْدٰي يُرْدِيْ إِرْدَاءً} (افعال) ہلاک کرنا۔ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کر دیتا۔

➋ ان آیات میں برے ساتھیوں سے اجتناب کا سبق ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو اس کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔