🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الجاثيه
وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ۙ﴿۷﴾
بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔[7]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 7) ➊ { وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ:} آیات سن کر ان کا اثر قبول کرنے کے لحاظ سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو ایمان و یقین اور عقل سے بہرہ ور ہوتے ہیں، اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو تکبر کی وجہ سے اللہ کی آیات کے انکار پر اصرار کرنے والے ہیں۔

➋ { وَيْلٌ } کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷۹) {إِفْكٌ} بدترین جھوٹ، بہتان۔ { اَفَّاكٍ } مبالغے کا صیغہ ہے، سخت جھوٹا۔ { اَثِيْمٍ } سخت گناہ گار۔ یعنی ہر ایسے انسان کے لیے بہت بڑی ہلاکت اور بربادی ہے جو قول میں سخت جھوٹا اور فعل میں سخت گناہ گار ہے۔