اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔[8]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 8) ➊ {فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً:} یہ {” الرّٰشِدُوْنَ “} کا مفعول لہ ہے، یعنی یہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کی وجہ سے کامل ہدایت والے ہیں۔ یہ {” حَبَّبَ “} اور {” كَرَّهَ “} کا مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے۔
➋ {وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اندھا دھند نہیں بلکہ اپنے کمال علم و حکمت کی بنا پر انھیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا۔ ان کے دلوں میں ایمان کو محبوب و مزین کر دیا، کفر و فسوق اور عصیان کو ناپسندیدہ بنا دیا اور انھیں راہِ راست پر گامزن فرما دیا، کیونکہ وہ ان کی استعداد و اہلیت پوری طرح جانتا تھا اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ انھیں اس مقام پر فائز فرمائے۔