🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الذاريات
قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
اٹکل لگا نے والے مارے گئے۔[10]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 10){ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ: خَرَصَ يَخْرُصُ خَرْصًا} (ن) اندازہ لگانا، اٹکل لگانا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ» [ الزخرف: ۲۰ ] وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ {خَرَّاصٌ} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اٹکل لگانے والا۔ کفا رکے پاس آسمانی ہدایت کی روشنی نہیں اس لیے وہ علم اور یقین سے محروم ہیں، ان کا سارا دار و مدار ظن و تخمین اور وہم و گمان پر ہے۔ چنانچہ شرک کی بنیاد سراسر گمان اور اندازوں پر ہے (دیکھیے نجم: ۲۳، ۲۸) اور قیامت کا انکار بھی محض خرص و تخمین (اٹکل اور اندازوں) پر ہے۔ ظاہر ہے اٹکل اور اندازوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں، اس لیے فرمایا، اٹکل لگانے والے مارے گئے۔