🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الواقعة
فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾
پس دائیں ہاتھ والے، کیا (خوب) ہیں دائیں ہاتھ والے۔[8]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 9،8) {فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ …: أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ} مبتدا ہے اور { مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ } جملہ ہو کر خبر ہے۔ دائیں ہاتھ والے جنھیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیے جائیں گے۔ (دیکھیے حاقہ: ۱۹) استفہام سے مراد ان کی عظمتِ شان کا اظہار ہے، یعنی وہ اتنی بلند شان والے ہیں کہ ان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے کہ { أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ } کیا ہیں۔ یہاں ان کی شان اجمالاً بیان ہوئی ہے، تفصیل آگے { وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ } میں آ رہی ہے۔ اسی طرح { وَ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ } میں بائیں ہاتھ والوں کی بری حالت کا اظہار مقصود ہے کہ وہ کیا ہی بری ہے، تفصیل اس کی { وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ } میں آ رہی ہے۔