🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الواقعة
لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵﴾
وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔[25]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 26،25) {لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا …:” تَاْثِيْمًا “ ”إِثْمٌ“} سے باب تفعیل کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، گناہ گار کرنے والی بات۔ {”قِيْلٌ“} اور {”قَوْلٌ“} دونوں {”قَالَ يَقُوْلُ“} کے مصدر ہیں۔ {” سَلٰمًا سَلٰمًا “ ” قِيْلًا “} سے بدل ہے یا اس کا مقولہ ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مریم (۶۲) اور سورۂ نبا (۳۵)۔