🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة النبأ
وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾
اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہو جائے گا۔[19]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 19) {وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا:} آسمان میں اب بھی دروازے موجود ہیں، جیسا کہ سورئہ اعراف (۴۰) میں ہے اور حدیث معراج میں بھی اس کا ذکر ہے، مگر اس وقت آسمان اس طرح پھٹے گا جیسے وہ سارے کا سارا دروازوں کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ پھٹنا فرشتوں کے اتارے جانے کے لیے ہو گا،جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [ الفرقان: ۲۵ ] ”جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔“