🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الفجر
وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾
اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور ( اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔[23]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 23) {وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ:} عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُؤْتٰی بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُوْنَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّوْنَهَا ] [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منھا: ۲۸۴۲ ] اس دن جہنم اس حال میں لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔