🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر ابن کثیر
سورة الصافات
وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚۖاِنَّہُمۡ لَہُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾۪وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۱۷۴﴾ۙوَّ اَبۡصِرۡہُمۡ فَسَوۡفَ یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷۵﴾اَفَبِعَذَابِنَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۱۷۶﴾فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمۡ فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۱۷۷﴾وَ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۱۷۸﴾ۙوَّ اَبۡصِرۡ فَسَوۡفَ یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] اور البتہ ہمارا وعده پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے[171]کہ یقیناً وه ہی مدد کیے جائیں گے[172]اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا[173]اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے[174]اور انہیں دیکھتے رہیئے، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے[175]کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟[176]سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا بڑی بری صبح ہوگی[177]آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے[178]اور دیکھتے رہئیے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے[179]
......
[ترجمہ فتح محمد جالندھری] اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے[171]کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں[172]اور ہمارا لشکر غالب رہے گا[173]تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو[174]اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے[175]کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں[176]مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اُترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا[177]اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرے رہو[178]اور دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (نتیجہ) دیکھ لیں گے[179]
......
[ترجمہ عبدالسلام بن محمد] اور بلاشبہ یقینا ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے ہماری بات پہلے طے ہو چکی۔[171]کہ بے شک وہ، یقینا وہی ہیں جن کی مدد کی جائے گی۔[172]اور بے شک ہمارا لشکر، یقینا وہی غالب آنے والا ہے ۔[173]سو ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔[174]اور انھیں دیکھ، پس وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔[175]تو کیا وہ ہمارا عذاب جلدی مانگتے ہیں؟[176]پھر جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوگی۔[177]اور ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔[178]اور دیکھ، پس وہ بھی جلدی دیکھ لیں گے۔[179]
......
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 171،172،173،174،175،176،177،178،179
عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ‏‏‏‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔
یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘
پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] ‏‏‏‏
پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔