اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میںسے ایک آدمی پر عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمھیں نوح کی قوم کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں قد و قامت میں زیادہ پھیلاؤ دیا۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔[69]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
69۔ کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعہ آئی ہے جو تمہی میں سے ہے تاکہ وہ تمہیں (برے انجام سے) ڈرائے۔ اور (اللہ کا یہ احسان) یاد کرو۔ جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند [73] بنایا۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ“
[73] قوم عاد کا قد و قامت اور ڈیل ڈول:۔
بعض روایات کے مطابق عاد کے لوگوں کے قد اوسطاً بارہ ہاتھ تھے اتنی ڈیل ڈول رکھنے والے انسانوں کی قوت اور طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے پھر انہیں رزق کی فراوانی بھی حاصل تھی۔ سیدنا ہودؑ نے اللہ کے احسان جتلا کر انہیں بتلایا کہ دیکھو نوحؑ کی قوم نے بت پرستی نہ چھوڑی تو ان کا جو حشر ہوا وہ تمہارے سامنے ہے لہٰذا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسی کی عبادت کرو۔