🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الۡحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوۡا وَّ قَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۹۵﴾
پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوشحالی بدل کر دے دی، یہاں تک کہ وہ خوب بڑھ گئے اور انھوں نے کہا یہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادا کو (بھی) پہنچی تھی۔ تو ہم نے انھیں اچانک اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔[95]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
95۔ پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی میں بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے: یہ اچھے اور برے دن تو ہمارے آباء و اجداد پر بھی آتے رہے ہیں پھر یکدم ہم نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی