پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوشحالی بدل کر دے دی، یہاں تک کہ وہ خوب بڑھ گئے اور انھوں نے کہا یہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادا کو (بھی) پہنچی تھی۔ تو ہم نے انھیں اچانک اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔[95]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
ثُمَّ
بَدَّلۡنَا
مَکَانَ
السَّیِّئَۃِ
الۡحَسَنَۃَ
حَتّٰی
عَفَوۡا
وَّقَالُوۡا
قَدۡ
مَسَّ
اٰبَآءَنَا
الضَّرَّآءُ
وَالسَّرَّآءُ
فَاَخَذۡنٰہُمۡ
بَغۡتَۃً
وَّہُمۡ
لَایَشۡعُرُوۡنَ
پھر
بدل دیا ہم نے
جگہ
برائی کے
بھلائی کو
یہاں تک کہ
وہ زیادہ ہو گئے
اور وہ کہنے لگے
تحقیق
پہنچی تھی
ہمارے آباؤ اجداد کو(بھی)
تکلیف
اور خوشی
تو پکڑ لیا ہم نے انہیں
اچانک
اور وہ
وہ شعور نہ رکھتے تھے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
ثُمَّ
بَدَّلۡنَا
مَکَانَ السَّیِّئَۃِ
الۡحَسَنَۃَ
حَتّٰی
عَفَوۡا
وَّقَالُوۡا
قَدۡ
مَسَّ
اٰبَآءَنَا
الضَّرَّآءُ
وَالسَّرَّآءُ
فَاَخَذۡنٰہُمۡ
بَغۡتَۃً
وَّہُمۡ
لَایَشۡعُرُوۡنَ
پھر
بدل دیاہم نے
بدحالی کی جگہ
خوش حالی کو
حتیٰ کہ
وہ خوب بڑھ گئے
اور انہوں نے کہا
بے شک
پہنچے تھے
ہمارے باپ دادا کو
دکھ
اور سکھ
تو پکڑلیا ہم نے ان کو
اچانک
اس حال میں کہ وہ
وہ سوچتے نہ تھے
حافظ نذر احمد حفظه الله
ثُمَّ
بَدَّلْنَا
مَكَانَ
السَّيِّئَةِ
الْحَسَنَةَ
حَتّٰي
عَفَوْا
وَّقَالُوْا
قَدْ مَسَّ
اٰبَآءَنَا
الضَّرَّآءُ
وَالسَّرَّآءُ
فَاَخَذْنٰهُمْ
بَغْتَةً
وَّهُمْ
لَا يَشْعُرُوْنَ
پھر
ہم نے بدلی
جگہ
برائی
بھلائی
یہاں تک کہ
وہ بڑھ گئے
اور کہنے لگے
پہنچ چکے
ہمارے باپ دادا
تکلیف
اور خوشی
پس ہم نے انہیں پکڑا
اچانک
اور وہ
بیخبر تھے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]