🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّ ہٰذَا لَمَکۡرٌ مَّکَرۡتُمُوۡہُ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡہَاۤ اَہۡلَہَا ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
فرعون نے کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بے شک یہ تو ایک چال ہے جو تم نے اس شہر میں چلی ہے، تاکہ تم اس سے اس کے رہنے والوں کو نکال دو، سو تم جلد جان لو گے۔[123]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
123۔ فرعون نے انہیں کہا: بیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے یقیناً یہ تمہاری ایک سازش تھی جو تم نے اس شہر (دار السلطنت) میں کی ہے تاکہ اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو۔ سو تمہیں جلد ہی اس کا انجام معلوم ہو جائے گا