🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنفال
الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا، خرچ کرتے ہیں۔[3]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
3۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ مال و دولت ہم نے انہیں [6] دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
[6] ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب اور حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ کے اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں۔ مثلاً حج و عمرہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر حق ہے۔ اموال زکوٰۃ میں اللہ کا اور بندوں کا دونوں کا حق ہے۔ اسی طرح نفلی صدقات، اقرباء، فقراء اور مساکین کے لیے ہوتے ہیں۔