🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة التوبة
ثُمَّ یَتُوۡبُ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۷﴾
پھر اس کے بعد اللہ توبہ کی توفیق دے گا جسے چاہے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[27]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
27۔ پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق [25] دے دیتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[25] لونڈی غلاموں کی واپسی:۔

جنگ کا یہ انجام دیکھ کر ان قبائل کے بہت سے لوگ اسلام لے آئے۔ پھر تقریباً دو مہینہ بعد یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو اس وقت مکہ میں مقیم تھے اور درخواست کی کہ ان کے اموال ان کو واپس کر دیئے جائیں اور لونڈی غلام آزاد کر دیئے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک یہ سب کچھ مجاہدین میں تقسیم کر چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ تم بہت دیر سے آئے۔ میں تمہارا انتظار کرتا رہا۔ اب تو میں سب کچھ تقسیم کر چکا ہوں۔ اب تو یہی ہو سکتا ہے کہ تم اپنے اموال واپس لے لو یا لونڈی غلام۔ ان لوگوں نے لونڈی غلام لینے کو ترجیح دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے برضا و رغبت مسلمانوں نے سارے کے سارے لونڈی غلام واپس کر دیئے۔