اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ سنبھال لیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔[50]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
50۔ اگر آپ کو کوئی بھلائی [54] ملے تو انہیں بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مصیبت آ پڑے تو کہتے ہیں۔ ”ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست رکھا تھا“ پھر وہ خوش خوش واپس چلے جاتے ہیں
[54] یعنی اگر فتح نصیب ہو تو یہ جل بھن جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ شکست سے دو چار ہونا پڑے تو کہتے ہیں کہ ہم نے از راہ دور اندیشی پہلے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیا تھا ہم سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا یہی حشر ہونے والا ہے لہٰذا ان کے ساتھ گئے ہی نہیں۔ پھر وہ خوشی خوشی ڈھیں گیں مارتے اور بغلیں بجاتے اپنی مجلسوں سے اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔