🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة هود
وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا ہُوۡدًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّیۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۸﴾
اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ نجات دی اور انھیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا۔[58]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
58۔ پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آ گیا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انھیں اپنی مرضی سے نجات دی [66] اور سخت عذاب سے انھیں بچا لیا
[66] قوم عاد پر عذاب:۔

ان پر تند و تیز اور نہایت ٹھنڈی آندھی کا عذاب آیا تھا یہ آندھی اتنی تیز رفتار اور ہولناک تھی کہ اس میں انسان اور درخت اڑتے چلے آتے تھے۔ درختوں کو توڑ دیتی اور بعض کمزور چھتوں کو اڑا دیتی تھی۔ پھر یہی چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر پارہ پارہ اور تباہ و برباد ہو رہی تھیں پھر اس آندھی میں شدید ٹھنڈک مستزاد تھی اور یہ آندھی مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی جس نے ان کے گھروں میں داخل ہو کر انھیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ عذاب آنے سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے ہودؑ کو وحی کر دی تھی کہ وہ اور ان کے ساتھی فلاں احاطہ میں جا کر محصور ہو جائیں۔ اس طرح ایمان لانے والوں کو اللہ نے اس سے بچا لیا۔