اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔[77]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
77۔ پھر جب ہمارے فرستادہ (فرشتے) لوط کے پاس آئے تو انھیں ان کا آنا ناگوار محسوس ہوا اور دل گھٹ گیا اور کہنے لگے۔ یہ تو مصیبت [87] کا دن ہے
[87] خوش شکل فرشتے اور سیدنا لوطؑ کو خدشہ:۔
سیدنا ابراہیمؑ سے ہو کر یہ فرشتے نہایت خوبصورت جوان اور بے ریش لڑکوں کی شکل میں سیدنا لوطؑ کے پاس آئے جنہیں دیکھ کر سیدنا لوطؑ کے دل میں سخت گھٹن پیدا ہوئی کئی طرح کے خطرات ان کے سامنے منڈلانے لگے بڑا خطرہ یہی تھا کہ یہ مہمان خوبصورت لڑکے ہیں اور میری قوم جس بدکاری میں مبتلا ہے وہ انھیں کبھی چھوڑے گی نہیں اور دوسری فکر یہ تھی کہ اگر میں ان کی مدافعت بھی کرنا چاہوں تو یہ مرے بس کا روگ نہیں۔