🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحجر
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾
پس تو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے چل اور خود ان کے پیچھے پیچھے چل اور تم میںسے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جائو جہاں تمھیں حکم دیا جاتا ہے۔[65]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
65۔ لہٰذا تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم ان سب کے پیچھے رہو اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ اور وہاں جاؤ [33] جہاں تمہیں حکم دیا گیا ہے
[33] آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ عذاب اسی شہر اور اس کے مضافات پر آیا تھا۔ ان کا علاقہ عراق اور فلسطین کے درمیان واقع تھا جہاں آج کل شرق اردن ہے۔ یہاں سے آپ کو شام کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سورۃ ہود میں واقعہ کی ترتیب یہ ہے کہ جب فرشتے سیدنا لوطؑ کے ہاں آئے تو قوم کے بدمعاش اور غنڈے فوراً سیدنا لوطؑ کے گھر پہنچ گئے۔ اور آپ کو اپنے ان مہمانوں کو ان غنڈوں سے بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ تا آنکہ آپؑ نے یہ فرمایا کہ کاش! مجھ میں ان کی مدافعت کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا تو اس وقت فرشتوں نے اپنا تعارف کرایا اور تسلی دی کہ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہاں ترتیب یہ ہے کہ عذاب کا ذکر پہلے آیا ہے اور باقی تفصیلات بعد میں۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مضمون کے تسلسل اور مناسبت کی بنا پر عذاب کا ذکر پہلے کر دیا گیا ہے ورنہ واقعہ کی اصل ترتیب وہی ہے جو پہلے سورۃ ہود میں مذکور ہوئی۔