جس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اپنی طرف سے جھگڑ رہا ہو گا اور ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔[111]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
111۔ جس دن ہر شخص اپنی بابت ہی جھگڑا کرتا ہوا آئے [115] گا اور ہر ایک کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہو گا
[115] قیامت کے دن صرف اپنی اپنی جان کی فکر ہو گی:۔
ان مہاجرین و مجاہدین کی لغزشیں اس دن معاف کر دی جائیں گی جس دن ہر شخص کو صرف اپنی ہی فکر پڑی ہو گی۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، اولاد کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا حتیٰ کہ اس سے بولنا بھی پسند نہ کرے گا بلکہ ان سے بچتا پھرے گا۔ ہر ایک کو یہ فکر ہو گی کہ وہ عذاب الٰہی سے کیسے نجات حاصل کر سکتا ہے اس غرض کے لیے وہ کچھ جھوٹے سچے عذر بھی تراشے گا اور سوال و جواب کر کے چاہے گا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے۔