🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الإسراء/بني اسرائيل
وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾
اور ہم نے نوح کے بعد کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا بہت کافی ہے۔[17]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
17۔ نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں [17] اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار رہنے اور دیکھنے کو کافی ہے۔
[17] سب سے پہلے قوم نوح صلی اللہ علیہ وسلم پر عذاب آیا کیونکہ اس سے پہلے شرک نہ تھا:۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا نوح صلی اللہ علیہ وسلم تک سب لوگ توحید پرستی پر قائم اور شرک سے نا آشنا تھے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ شرک کا آغاز قوم نوح سے ہوا جب ان میں پانچ بزرگ مر گئے تو شیطان نے انھیں پٹی پڑھائی کہ ان کے مجسمے تیار کر لیں۔ اس طرح بنی نوع انسان میں بت پرستی کا آغاز ہوا۔ اور شرک ہی وہ برائی ہے جس کے آگے دوسری برائیاں جنم لیتی ہیں اور جب معاشرہ ان برائیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے تو عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ اور اس طرح کے جو عذاب آئے ان میں پہلا عذاب طوفان نوح تھا پھر اس کے بعد دوسری قوموں پر عذاب آتے رہے جن کا ذکر متعدد بار پہلے گزر چکا ہے۔