🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الكهف
وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾
اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے، اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیںگے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔[49]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
49۔ اور نامہ اعمال (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اعمال نامہ کے مندرجات سے ڈر رہے ہیں اور کہیں گے ہائے ہماری بد بختی اس کتاب نے نہ تو کوئی چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی، سب کچھ ہی ریکارڈ کر لیا ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے سب اس میں موجود پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر (ذرہ بھر بھی) ظلم نہیں کرے گا۔