🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الكهف
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ﴿۶۱﴾
تو جب وہ دونوں ان کے آپس میں ملنے کے مقام پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے، تو اس نے اپنا راستہ دریا میں سرنگ کی صورت بنالیا۔[61]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
61۔ پھر جب وہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچ گئے تو اپنی مچھلی [60] کو بھول گئے اور اس مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔
[60] مردہ مچھلی کا زندہ ہو کر دریا میں چھلانگ لگانا اور سمندر میں سوراخ بنانا:۔

جب وہ سنگھم پر پہنچ گئے تو موسیٰؑ ایک چٹان کے سایہ میں سو گئے اور ان کے خادم سیدنا یوشع بن نونؑ جنہیں بعد میں نبوت بھی عطا ہوئی اور سیدنا موسیٰؑ کے خلیفہ بھی بنے۔ وہاں بیٹھے رہے۔ اسی دوران مچھلی میں حرکت پیدا ہوئی وہ تڑپی اور دریا میں چھلانگ لگا دی پہلے تو سیدنا یوشع کو خیال آیا کہ سیدنا موسیٰؑ کو جگا کر انھیں مچھلی کے دریا میں جانے کی اطلاع کر دوں۔ مگر جب وہ جاگے اور آگے سفر کرنے کو کہا تو یوشعؑ مچھلی کی بات انھیں بتانا بھول گئے نہ ہی موسیٰؑ کو خیال آیا کہ وہ اپنی علامتی مچھلی کو دیکھ لیں۔