🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الكهف
الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَ کَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا ﴿۱۰۱﴾٪
وہ لوگ کہ ان کی آنکھیں میرے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سن ہی نہ سکتے تھے۔[101]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
101۔ جن کی آنکھوں پر میرے ذکر سے (غفلت کا) پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ [83] کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھے۔
[83] یعنی جس مقصد حقیقی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں آنکھیں اور کان عطا کیے تھے۔ اس کے لیے ان لوگوں نے ان اعضاء سے کوئی کام نہ لیا اور وہ مقصد یہ تھا کہ آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کریں اور حق بات سننے کے لیے ان کے کان ہر وقت آمادہ ہوں۔