🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَ مَنۡ عَلَیۡہَا وَ اِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۴۰﴾
بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔[40]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
40۔ بلا شبہ ہم ہی زمین اور اس پر موجود سب چیزوں کے [36] وارث ہوں گے اور انھیں ہمارے ہاں ہی لوٹ کر آنا ہے۔
[36] یعنی اس دن نہ کسی کا ملک باقی رہے گا نہ ملک باقی رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی علی الاطلاق ہر چیز کا مالک و مختار ہو گا۔ اور وہی ہر چیز کا وارث ہو گا۔ ملک و مِلک کے لمبے چوڑے دعویٰ رکھنے والے وہاں خالی ہاتھ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔