🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة طه
قَالَ یَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡیَتِیۡ وَ لَا بِرَاۡسِیۡ ۚ اِنِّیۡ خَشِیۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَیۡنَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ لَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِیۡ ﴿۹۴﴾
اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ میرا سر، میں تو اس سے ڈرا کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔[94]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
94۔ ہارون نے جواب دیا: میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ تم آ کر یہ نہ کہو کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ [65] ڈال دی اور میری بات کا لحاظ نہ رکھا
[65] سیدنا موسیٰؑ اور سیدنا ہارونؑ کا مکالمہ:۔

سیدنا ہارونؑ اگرچہ عمر میں بڑے تھے تاہم منصب کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔ علاوہ ازیں سیدنا موسیٰؑ جلالی طبیعت کے مالک اور سخت جوش غضب میں تھے۔ لہٰذا اسی کا غضب سے مغلوب ہو کر سیدنا ہارونؑ کی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑا تھا۔ سیدنا ہارونؑ بڑے تحمل سے کہنے لگے کہ پہلے میری بات سن لو اور میری داڑھی پکڑ کر دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو۔ بات یہ تھی کہ جب یہ لوگ شرک میں مبتلا ہوئے تو میں نے انھیں پوری سختی سے روکا تھا۔ لیکن چونکہ اکثریت اس شرک میں مبتلا تھی لہٰذا انہوں نے مجھے دبا لیا اور مجھے جان سے مار ڈالنے کے درپے ہو گئے تھے اور ان میں اکثر میرے دشمن بن گئے تھے۔ اب اگر میں اس معاملہ میں مزید سختی اختیار کرتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان میں خانہ جنگی چھڑ جاتی، پھر ان کی اصلاح کی کوئی بھی صورت باقی نہ رہ جاتی۔ لہٰذا مجھے بھی تمہاری ہی انتظار تھی کہ اب ان لوگوں کا کیا علاج کیا جانا چاہئے۔