پھر کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا کئی عظیم نشانیاں ہیں۔[128]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
128۔ کیا انھیں اس بات سے کوئی رہنمائی نہ ملی کہ ان سے بیشتر ہم کئی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کے (برباد شدہ) ٹھکانوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں اہل عقل کے لئے بہت سی [93] نشانیاں ہیں۔
[93] اس آیت کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جن میں سابقہ اقوام کی ہلاکت کے چرچے زبان زد تھے اور وہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران ان کے تباہ شدہ کھنڈرات بچشم خود ملاحظہ بھی کر سکتے تھے۔ اگر وہ ان کے حالات میں کچھ بھی غور و فکر کرتے تو انھیں معلوم ہو سکتا تھا کہ بالآخر ان کا اپنا بھی ویسا ہی انجام ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ چاہتے تو انھیں واقعات سے کافی عبرت حاصل کر سکتے تھے۔