🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة طه
وَ لَوۡ اَنَّـاۤ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَقَالُوۡا رَبَّنَا لَوۡ لَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَ نَخۡزٰی ﴿۱۳۴﴾
اور اگر ہم انھیں اس سے پہلے کسی عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو یہ لوگ ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ہوں اور رسوا ہوں۔[134]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
134۔ اور اگر ہم انھیں اس سے پیشتر عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے [102] پہلے ہی تیری آیات کی پیروی کر لیتے۔
[102] یعنی یہ قرآن بھی بطور حجت اور کافروں کا یہ اعتراض رفع کرنے کے لئے اتارا گیا ہے کہ اگر ہم پر بھی یہود و نصاریٰ کی طرف اللہ کی طرف سے ہدایت کی کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم یقیناً ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ نیز ہم نے ان میں رسول اس لئے بھی بھیجا ہے کہ وہ ذلت و رسوائی کے بعد یہ نہ کہنے لگیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آتا تو ہم یقیناً اس کی فرمانبرداری کرتے۔ اللہ کے احکام بجا لاتے اور ہمیں یہ رسوائیاں نہ دیکھنا پڑتیں۔