🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة طه
قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اہۡتَدٰی ﴿۱۳۵﴾٪
کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔[135]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
135۔ آپ ان سے کہئے کہ: ہر ایک انجام کار کا منتظر ہے لہذا تم بھی انتظار کرو۔ جلد ہی [103] تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ (ہم میں سے) کون راہ راست پر ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے
[103] یعنی اب تم بھی اور ہم بھی بلکہ سارے کا سارا عرب اس انتظام میں ہے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لہٰذا انتظار کرو۔ عنقریب سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون سا فریق سیدھی راہ پر گامزن ہے؟ زمانہ کی گردش کس پر پڑتی ہے اور تباہ کون ہوتا ہے؟