🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنبياء
وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖۤ اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ کُنَّا بِکُلِّ شَیۡءٍ عٰلِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾
اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تندوتیز تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔[81]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
81۔ نیز ہم نے سلیمان کے لئے تند و تیز ہوا کو مسخر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین [69] کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور ہم ہر چیز کو خوب [70] جانتے ہیں۔
[69] سیدنا سلیمانؑ کے لیے ہوا کی تسخیر:۔

پہلے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانؑ کے فیصلے کا ذکر ہوا۔ بعد میں ان پر انعامات کا۔ حضرت سلیمانؑ کو ایک معجزہ تو یہ عطا ہوا کہ تند و تیز ہوا ان کے لئے مسخر کر دی گئی تھی۔ وہ ہوا کو جس طرح کا حکم دیتے وہ آپ کے تابع فرمان رہتی اور اس طرح آپ ایک ماہ کا سفر صرف چند گھنٹوں یعنی 3 سے 6 گھنٹوں کے درمیان کر لیا کرتے تھے۔ قرآن کریم کی تصریحات سے یہی کچھ ثابت ہے اور اس کی ایک توجیہ، جو عام طور پر مشہور ہے، یہ کی گئی ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑا تخت بنو ایا تھا۔ جب آپ چاہتے اس پر خود بھی آپ کے اعیان سلطنت بھی بیٹھ جاتے اور بھی جسے چاہتے اس پر بٹھا لیتے، پھر ہوا کو حکم دیتے تو وہ اس تخت کو اٹھا لیتی اور جب یہ تخت زمین سے خاصا بلند ہو جاتا تو آپ اس شام کا سفر کیا کرتے تھے اور جہاں آپ کو اترنا ہوتا تو آپ ہوا کو حکم دیتے تو وہ نرمی سے چلنے لگتی اور جہاں آپ چاہتے وہاں اتر جاتے تھے۔ اس طرح جو کام آج کے ہوائی جہاز پٹرول کے ذریعہ کرتے ہیں۔ حضرت سلیمانؑ یہی کام ہوا سے لے لیا کرتے تھے۔ اور اس کی رفتار بھی تقریباً وہی ہوتی تھی جو آج کل ہوائی جہازوں کی ہے۔ اس دور میں یہ ایک معجزہ تھا مگر آج کے دور میں ایک عادی اور معمولی چیز بن چکا ہے اور اس سفر کی دوسری توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ حضرت داؤدؑ کو تو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی ڈھلائی کا کام سکھلایا تھا۔ جبکہ سلیمانؑ کو لوہے کے علاوہ تانبے کی ڈھلائی کا فن بھی سکھلا دیا تھا اور آپ کے دور میں یہ کام آپ کی نگرانی میں وسیع پیمانہ پر ہوتا تھا۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ﴾ [12: 34] (یعنی ہم نے سلیمانؑ کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے بہا دیئے تھے) جس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے دور میں لوہے اور تانبے کی مصنوعات نے خاص ترقی کی تھی اور آپ ان کی وسیع پیمانہ پر تجارت کیا کرتے تھے۔ آپ کے بحری بیڑے یمن سے شام اور شام سے یمن آتے جاتے تھے۔ اور چونکہ ہوا آپ کے تابع فرمان تھی لہٰذا یہ بیڑے برق رفتاری سے سفر کرتے اور ایک ماہ کا سفر چند گھنٹوں میں طے کر لیتے تھے۔

[70] یعنی ہم یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ کون کس بات کا اہل ہے اور یہ بھی کسی چیز مثلاً ہوا سے ہی کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔