🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحج
وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّرِیۡدُ ﴿۱۶﴾
اور اسی طرح ہم نے اسے روشن آیات کی صورت میں نازل کیا ہے اور یہ کہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔[16]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
16۔ اسی طرح کی واضح آیات سے ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور اللہ یقیناً ہدایت اسے ہی [15] دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔
[15] یعنی اگرچہ قرآن میں ایسے بے شمار واضح دلائل موجود ہیں پھر بھی ان دلائل سے ہر شخص کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی بلکہ اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے متعلق اللہ کی مشیت ہو۔ مشیت الٰہی صرف انھیں نصیب ہوتی ہے جو خود ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ضدی، ہٹ دھرم، تکبر اور نافرمان قسم کے لوگوں کو نہ اللہ کی نسبت نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ جبراً کسی کو ہدایت دے۔