جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔[15]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
15۔ جس وقت تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جہان کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کچھ علم نہ تھا اور تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے ہاں [19] بہت بڑی بات تھی۔
[19] انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے بیان کر دے:۔
محض سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کر دینا کبیرہ گناہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے آگے منتقل کر دے“[مقدمه صحيح مسلم]