سو انھوں نے تو تمھیں اس بات میں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو، پس تم نہ کسی طرح ہٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ کسی مدد کی اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بہت بڑا عذاب چکھائیں گے۔[19]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
19۔ گویا (اے کافرو)! جو تم آج [23] کہتے ہو، اس دن تمہارے معبود تمہیں جھٹلا دیں گے۔ پھر نہ تم (عذاب کو) ٹال سکو گے اور نہ تمہیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔ اور جو بھی تم سے ظلم [24] کر رہا ہے اسے ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
[23] یعنی آج تم یہ کہتے ہو کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو تمہارے یہ معبود وہاں بھی تمہارے کام آئیں گے اور اگر عذاب کی کوئی بات ہوئی تو یہ چھڑا لیں گے۔ مگر اس دن تمہارے یہی معبود جن کی اعانت پر تمہیں بھروسا تھا۔ تم سے علانیہ بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اور یہ کہہ کر تمہیں جھٹلا دیں گے کہ ہم نے کب ان سے کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کیا کرنا۔ اس طرح معبود تو بری الذمہ ہو جائیں گے اور سارا بوجھ ان کے عبادت کرنے والوں پر پڑ جائے گا جن کی عذاب سے رہائی کی کوئی صورت نہ ہو گی۔
[24] ظلم کا لغوی مفہوم:۔
ظلم کا لفظ عدل کی ضد ہے۔ اور اس کا اطلاق تو ہر بے انصافی کی بات اور غیر معقول بات پر ہو سکتا ہے۔ نبی کی دعوت کو جھٹلانا، اسلام کی راہ سے روکنا، ایمان لانے والوں کو ایذائیں پہنچانا، انھیں پریشان کرنا یا ان کا تمسخر اڑانا، بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت کرنا یا انھیں حاجت کے لئے پکارنا، آخرت کے عذاب و ثواب سے انکار کرنا سب ظلم کی ہی قسمیں ہیں اور ان کاموں کا ارتکاب کرنے والے سب ظالم ہیں۔