🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشعراء
وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ہِیَ بَیۡضَآءُ لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿٪۳۳﴾
اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار) تھا۔[33]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
33۔ نیز موسیٰ نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا تو وہ یکدم دیکھنے والوں کے سامنے چمک [26] رہا تھا
[26] یہ پہلا معجزہ ہی فرعون کی یقین دہانی کے لئے کافی تھا۔ ابھی فرعونیوں پر اس معجزہ کے اثرات باقی تھے کہ حضرت موسیٰؑ نے دوسری نشانی کا آغاز کیا اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں بغل میں دبایا۔ پھر جب اسے نکالا تو اس سے روشنی کی شعاعیں نکل کر فرعون اور اس کے درباریوں کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگیں۔ فرعون اور سب درباری محو حیرت بنے ہوئے ان نشانیوں کا اثر قبول کر رہے تھے۔