🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشعراء
قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴿۴۳﴾
موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔[43]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
43۔ موسیٰ نے جادوگروں سے کہا: پھینکو جو تم پھینکنا [33] چاہتے ہو۔
[33] فرعون کے اس جواب پر جادوگر بہت خوش ہو گئے۔ میدان مقابلہ میں آئے تو موسیٰؑ سے مقابلہ کے عام دستور کے مطابق پوچھا: پہلے آپ اپنا شعبدہ دکھائیں گے، یا ہم پہل کریں؟ موسیٰؑ نے فوراً جواب دیا: نہیں پہلے تم ہی اپنا شعبدہ دکھاؤ گے۔ موسیٰؑ نے یہ جواب محض رسماً یا رواجاً یا ان کی عزت افزائی کے طور پر نہیں دیا بلکہ آپ چاہتے ہی یہ تھے کہ باطل پوری طرح پہلے اپنا مظاہرہ کر لے۔ اس کے بعد ہی حق کی فتح پوری طرح واضح ہو سکے گی۔