🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النمل
وَ اِنَّکَ لَتُلَقَّی الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۶﴾
اور بلاشبہ یقینا تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے،سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔[6]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
6۔ اور (اے نبی) آپ یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا [6] رہے ہیں۔
[6] یعنی یہ قرآن ایسی ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو تمام لوگوں کے احوال سے پوری طرح با خبر ہے۔ اس کی نظروں میں سب انسان بحیثیت انسان ایک جیسے ہیں۔ جو ہر ایک کے حقوق و فرائض اپنے اسی وسیع علم کی بنا پر مقرر کرتی ہے۔ پھر وہ حکیم بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر حکم میں کچھ نہ کچھ حکمتیں مضمر ہوتی ہیں اور اس کے احکام بندوں ہی کی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں۔