تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة العنكبوت
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾
پھر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر دو، یا اسے جلادو، تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔[24]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
24۔ تو ابراہیم [36] کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہہ دیا کہ ”اسے مار ڈالو یا جلا ڈالو“ پھر اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا۔ یقیناً اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لئے کئی نشانیاں [37] ہیں۔
[36] قوم کا سیدنا ابراہیمؑ کو آگ کے الاؤ میں پھینک دینا:۔ حضرت ابراہیمؑ کے حالات کے درمیان آیت نمبر 19 سے لے کر آیت نمبر 23 تک اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام ہے۔ جس میں ربط مضمون کی نسبت سے توحید اور آخرت پر کچھ دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر حضرت ابراہیمؑ کے حالات کی طرف غور کیا جا رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے دلائل توحید کا جب قوم ابراہیم سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو وہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے اور یہی باطل پرستوں کی عادت ہوتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیمؑ کے ان کے بتوں کو توڑنے پھوڑنے کا واقعہ حذف کر دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ قوم پر عملی طور پر واضح کر سکیں کہ ان کے معبود بالکل ناکارہ چیزیں ہیں جو اپنی حفاظت اور اپنے آپ سے نقصان کو دور نہیں کر سکتے وہ دوسروں کی مشکل کشائی کیسے کر سکتے ہیں۔ اسی مشاہداتی دلیل نے ان لوگوں کو اور بھی زیادہ مشتعل اور سیخ پا بنا دیا۔ آخر انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ ابراہیم کو مار ہی ڈالو اور اگر ایسا نہ کرو تو اسے آگ میں جلا ڈالو۔ آگ میں جلانے کے مشورہ میں بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اسے دکھ دینے والا آگ کا عذاب دے کر مارنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ شاید آگ کا عذاب دیکھ کر اپنی باتوں سے باز رہنے کا عہد کر لے۔ بہرحال ان لوگوں نے لمبا چوڑا آگ کا الاؤ تیار کیا اور حضرت ابراہیمؑ کو اس آگ میں پھینک دیا۔
[37] لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کے حق میں ٹھنڈی اور غیر مضر بن جائے۔ چنانچہ ابراہیمؑ اس آگ میں اس طرح رہے جیسے کوئی شخص باغ اور گلزار میں رہتا ہے۔ اور اس میں نشانیاں یہ ہیں:
(1) ہر چیز کے کچھ طبیعی خواص ہیں اور یہ خواص اللہ تعالیٰ نے ہی ہر چیز میں ودیعت کر رکھے ہیں۔
(2) ان خواص میں اللہ تعالیٰ جب چاہے تبدیلی لا سکتا ہے۔ اگرچہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کہ اگر اللہ چاہے تو بعض اشیاء کے طبیعی خواص سلب بھی کر سکتا ہے اور ان میں تبدیلی بھی لا سکتا ہے۔
(3) اللہ کے بندوں کو اللہ کی مدد پہنچتی ضرور ہے۔ مگر پہلے انھیں ابتلا کے دور سے گزارا جاتا ہے اور ایسی خرق عادت مدد صرف اس وقت آتی ہے جب اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ اس واقعہ پر منکرین معجزات کی تاویل اور اس کا جواب سورۃ انبیاء کے حاشیہ نمبر 58 کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔