🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة العنكبوت
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی اور ہم نے اسے اس کا اجر دنیا میں دیا اور بے شک وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔[27]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
27۔ اور ہم نے انھیں اسحاق اور (اسحاق سے) یعقوب عطا کیے اور انہی کی اولاد میں نبوت [42] اور کتاب رکھ دی۔ اور ہم نے دنیا میں بھی انھیں اجر عطا کیا اور آخرت [43] میں وہ یقیناً صالح لوگوں سے ہوں گے۔
[42] سیدنا ابراہیمؑ پر اللہ کی مہربانیاں:۔

حضرت ابراہیمؑ پر جتنے بھی ابتلاء کے دور آئے ان سب میں آپ کامیاب رہے جب ہجرت کی تو اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ گھر بار اور وطن اور عزیز و اقارب چھوڑنے پر اللہ نے آپ کو اولاد عطا فرما دی کہ دل بہلا رہے۔ مزید یہ انعام فرمایا کہ نبوت آپ ہی کے خاندان سے مختص فرما دی۔ آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے آپ ہی کی نسل سے آئے۔ اسی لئے آپ کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے صرف آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیلؑ کی اولاد سے مبعوث ہوئے باقی سب حضرت اسحاقؑ بلکہ ان کے بیٹے حضرت یعقوبؑ کی اولاد سے تھے۔ جنہیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔

[43] دنیا میں ایک تو یہ اجر دیا کہ نبوت کو ان کے خاندان سے مختص کر دیا اور دوسرا اجر یہ دیا کہ آپ کو تمام لوگوں کا امام اور پیشوا بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں بلکہ اور بھی کئی مذاہب کے ہاں یکساں محترم ہیں حتیٰ کہ مکہ کے مشرکین بھی اپنے آپ کو انہی سے منسوب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر مزید مہربانی یہ تھی کہ رہتی دنیا تک آپ کا ذکر خیر ان میں چھوڑ دیا۔ امت محمدیہ میں اس ذکر خیر کی صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اپنی ہر نماز میں آپ پر درود پڑھے۔ اور آخرت میں آپ کو اعلیٰ درجہ کے صالحین (جو انبیائے اولو العزم کی جماعت ہے) میں شامل کیا۔