اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور یوم آخر کی امید رکھو اور زمین میں فساد کرنے والے بن کر دنگا نہ مچاؤ۔[36]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
36۔ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت [54] کرو اور آخرت کے دن [55] کی توقع رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاتے [56] پھرو۔
[54] ذکر شعیبؑ:۔
حضرت شعیبؑ اہل مدین کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے اور اصحاب ایکہ کی طرف بھی۔ اور یہ دونوں علاقے آس پاس تھے۔ شعیبؑ نے پہلی بات یہی کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور شرک ایسا مرض ہے جو تمام انبیاء کی قوموں میں پایا جاتا ہے۔ شیطان ہر دور میں انسان کو شرک کی نئی سے نئی شکلیں سمجھاتا رہتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو خالص اللہ کی عبادت سے برگشتہ کر کے کسی نہ کسی طرح کے شرک میں مبتلا کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی دعوت کا پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک کی نجاستوں سے مطلع کریں اور انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلائیں۔
[55] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آخرت کے دن پر ایمان لاؤ وہ یقیناً آنے والا ہے۔ جس میں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو گی۔ دوسرا یہ کہ اگر تم خالصتاً اللہ کی عبادت کرو گے۔ تو تمہیں آخرت کے دن اس کے اچھے اجر کی توقع رکھنا چاہئے۔
[56] اہل مدین کا فساد فی الارض یہ تھا کہ وہ اپنے لین دین کے معاملات میں دغا بازیاں کرتے تھے۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنے کے فن میں خوب ماہر تھے اور اس طرح دوسرے لوگوں کے حقوق پر مہذبانہ ڈاکے ڈالتے تھے۔