🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة العنكبوت
وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ لَوۡ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَیَاۡتِیَنَّہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آجاتا اور یقینا وہ ان پر ضرور اچانک آئے گا اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے۔[53]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
53۔ یہ لوگ آپ سے جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور اگر عذاب کا وقت مقرر نہ ہوتا تو وہ ان پر آچکا ہوتا اور وہ ان پر اس طرح اچانک آجائے گا کہ انہیں [85] خبر تک نہ ہو گی۔
[85] اس آیت میں جس عذاب کی جلدی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ دنیا کا عذاب ہے۔ اور وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق فتح مکہ کے دن آیا تھا۔ جب کفار مکہ کو یک دم مسلمانوں کی یلغار کی خبر ہوئی اور ان میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔