تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة العنكبوت
اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۲﴾
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔[62]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
62۔ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم کر دیتا ہے [94] اور وہ یقیناً ہر بات سے خوب [95] واقف ہے۔
[94] مال کی محبت انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ مال و دولت ملے۔ لیکن اللہ اتنا ہی دیتا ہے جتنا وہ خود چاہتا ہے۔ کسی کو زیادہ، کسی کو کم۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی کو کچھ بھی نہ دے، دیتا ضرور ہے۔ اور اس میں بھی اس کی کئی حکمتیں اور بندوں کی مصلحتیں مضمر ہیں۔ [95] کسی کو کم یا زیادہ رزق دینے میں اللہ کی حکمتیں اور بندوں کے مصالح:۔
وہ یہ بات خوب جانتا ہے کہ فلاں بندے کو اگر رزق زیادہ دیا گیا تو وہ اس سے خیر اور بھلائی ہی کمائے گا اور فلاں کو زیادہ دیا گیا تو وہ میری یاد سے غافل اور سرکش اور متکبر بن جائے گا اور کہیں کسی کو مال کو زیادہ دے کر اسے ابتلاء میں ڈال دیتا ہے۔ غرض یہ کہ مال سے جتنی انسان کو محبت ہے اتنا ہی وہ مال اس کے حق میں فتنہ بھی بن سکتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص جنگل میں کھڑا تھا۔ اس نے بادل سے آواز سنی۔ (کسی نے آواز دی) کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ۔ چنانچہ بادل ایک طرف چلا۔ اور اپنا پانی ایک سنگلاخ زمین پر انڈیل دیا۔ اچانک نالیوں میں سے ایک نالے نے سارا پانی جمع کر لیا۔ وہ آدمی پانی کے پیچھے چلا دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہے۔ اور اپنے بیلچے سے پانی ادھر ادھر کر رہا ہے۔ اس آدمی نے کہا: ”اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا ’فلاں‘ وہی نام ہے جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے بندے تو نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا ”میں نے اس بادل سے جس کا یہ پانی ہے آواز سنی تھی کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا اور تیرا نام لیا“ پس تو اپنے باغ میں کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا جب تو نے پوچھا ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ جو کچھ میرے باغ میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرا عیال کھاتا ہے۔ اور ایک تہائی اس باغ میں لگا دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم۔ کتاب الزھد۔ باب فضل انفاق علی المساکین وابن السبیل]
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرما رہے تھے۔ آپ نے سب کو نہیں دیا، کسی کو دیا اور کسی کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ نے اس تقسیم کی وضاحت فرماتے ہوئے کہا میں اس شخص کو مال دیتا ہوں جس کے دل میں بے چینی اور بوکھلا پن پاتا ہوں۔ حالانکہ جن لوگوں کو نہیں دیتا وہ مجھے ان سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں جنہیں میں یہ مال دیتا ہوں اور جن محبوب لوگوں کو نہیں دیتا تو اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں سیر چشمی اور بھلائی رکھی ہوتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔ عمرو بن تغلب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! کہ جو خوشی مجھے آپ کی اس بات سے ہوئی اگر مجھے سرخ اونٹ بھی ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعه۔ باب من قال فی الخطبة بعد الثناء اما بعد]
ان واقعات سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی کو کم یا زیادہ دینے میں اللہ کی کیا کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔