🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الروم
مُنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۙ۳۱﴾
اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں سے نہ ہو جائو۔[31]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
31۔ اسی کی طرف [34] رجوع کرتے ہوئے (اسی بات پر قائم ہو جاؤ) اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم کرو اور ان مشرکوں سے نہ ہو جاؤ
[34] لہٰذا جس کسی نے بھی اس فطری دین کے خلاف کوئی غلط طرز عمل اختیار کر رکھا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسی فطری دین کی طرف لوٹ آئے۔ اور اللہ کی نافرمانی اور سرکشی سے ڈر جائے اور سب سے بڑی سرکشی اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پامال کرنا ہے۔ اور چونکہ اللہ سے ڈرنا ایک قلبی عمل ہے لہٰذا اس صفت کے اظہار کے لئے نماز کو ہمیشگی سے ادا کرتے رہو۔ اس سے تم میں مزید تقویٰ پیدا ہو گا۔