🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة لقمان
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو؟[21]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
21۔ اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے کیا (یہ انہی کی پیروی کریں گے) خواہ شیطان انھیں دوزخ کے عذاب [29] کی طرف بلاتا رہا ہو؟
[29] تقلید آباء شیطان کی پیروی ہے:۔

تقلید آباء کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بزرگوں میں سے کسی ایک نے کوئی غلطی کی۔ کوئی غلط عقیدہ اپنایا یا کوئی بدعی کام شروع کر دیا۔ پھر بعد کی نسلوں نے بزرگوں سے عقیدت کی بنا پر اس غلطی کو درست تسلیم کرتے ہوئے رائج کر لیا۔ اور اس کی تحقیق کی کسی نے ضرورت ہی نہ سمجھی۔ اس آیت میں دو باتوں کی صراحت کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ تقلید آباء بلا تحقیق اور شیطان کی پیروی کی ایک ہی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شیطان کی پیروی کا لازمی نتیجہ جہنم کا عذاب ہے۔ گویا ان سے سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ اگر شیطان تمہارے آباء و اجداد کو جہنم کی طرف لے جا رہا ہو تو بھی تم اپنے آباء و اجداد کی پیروی کرو گے؟