🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأحزاب
وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۴۸﴾
اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان اور ان کی ایذا رسانی کی پروانہ کر اور اللہ پر بھروسا کر اور وکیل کی حیثیت سے اللہ کافی ہے۔[48]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
48۔ نیز آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے اور ان کی ایذا رسانی کی پروا [76] نہ کیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کام بنانے کو اللہ ہی کافی ہے۔
[76] یعنی جن لوگوں نے طعن و تشنیع سے یہ طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا ہے ان کی نہ پروا کیجئے اور نہ ان سے بدلہ لینے کی فکر کیجئے۔ ورنہ یہ لوگ آپ کی منزل کھوٹی کر دیں گے۔ آپ پوری توجہ سے اپنا کام کرتے جائیے اور انھیں خائب و خاسر بنانے کے لئے آپ کی طرف سے اللہ ہی کافی ہے۔