تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة سبأ
وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّصُدَّکُمۡ عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُکُمۡ ۚ وَ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکٌ مُّفۡتَرًی ؕ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴۳﴾
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں توکہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جو چاہتا ہے کہ تمھیں اس سے روک دے جس کی عبادت تمھارے باپ دادا کرتے تھے اورکہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، حق کے بارے میں کہا، جب وہ ان کے پاس آیا، یہ نہیں ہے مگر کھلا جادو۔[43]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
43۔ اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں: ”یہ آدمی تو ایسا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ان (معبودوں) سے روک دے جنہیں تمہارے آباء و اجداد [66] پوجا کرتے تھے۔“ نیز وہ کہتے ہیں کہ ”یہ قرآن تو جھوٹ ہی گھڑا ہوا ہے۔ اور ان کافروں کے پاس جب حق آ گیا تو کہنے لگے کہ: ”یہ تو صریح جادو [67] ہے“
[65] اس وقت اللہ کے حضور فرشتے بھی موجود ہوں گے، مشرکین بھی اور شیاطین بھی۔ اور یہ سب کے اللہ کے سامنے محکوم اور بے بس ہوں گے۔ فرشتے بھی مشرکوں سے بیزار اور شیاطین بھی اور مشرک فرشتوں کے جواب کی وجہ سے ان سے بھی بیزار اور شیطانوں سے بھی جنہوں نے انہیں شرک کی راہ پر ڈالا تھا۔ گویا ہر ایک کو دوسرے سے بیزاری بھی ہو گی اور ہر ایک بے بس بھی ہو گا تو اس صورت میں دوسرے کو کیا فائدہ پہنچا سکے گا اور کیوں فائدہ پہنچائے گا؟ [66] کفار مکہ قرآن کو جادو کیوں کہتے تھے؟
یعنی ہمیں ہمارے طرز زندگی سے ہٹا کر ایک نئی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ہمارا طرز زندگی وہ ہے جو ہمارے آباؤ اجداد سے بڑی مدت سے رائج چلا آرہا ہے اور یہ شخص جس راہ پر ڈالنا چاہتا ہے اس کی بنیاد محض اس کی اپنی اختراع کردہ باتیں ہیں۔ اور چاہتا یہ ہے کہ یہ خود ہمارا متبوع بن جائے اور ہم اس کے تابع بن کر رہیں۔ ہم بھلا یہ بات کیسے گوارا کر سکتے ہیں؟ گویا قریش مکہ کے نزدیک پیغمبر اسلام کی دعوت محض ایک اقتدار کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ کوئی بات یا دلیل ماننے کو تیار نہ تھے۔
[67] اللہ کے کلام یا قرآن کریم کو کفار مکہ کا جادو کہنا اس لحاظ سے تھا کہ قرآن کی جادو اثر تاثیر سے وہ خود خائف رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں پر یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ وہ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کے بیوی بچے قرآن سے متاثر ہو جاتے ہیں حالانکہ وہ کم بخت خود اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ مگر محض ضد، ہٹ دھرمی، اور چند دنیوی مفادات کی خاطر قرآن اور دعوت قرآن کا انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ پھر وہ جادو سے یہ مطلب بھی لیتے تھے کہ جو شخص بھی ایمان لے آتا تھا۔ اسے پھر یہ پروا نہ رہتی تھی کہ فلاں شخص میرا باپ ہے یا بھائی ہے یا بیٹا ہے یا فلاں میری ماں ہے یا بیٹی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور مشرکین مکہ چونکہ ایسی جدائی ڈالنے کے لئے جادوگروں کی خدمات حاصل کیا کرتے تھے اور اس کلام سے بھی ایسی جدائی پڑ جاتی تھی۔ تو اس لحاظ سے بھی وہ قرآن کو جادو کہہ دیتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قرآن کے منکر ہونے کے باوجود اس بات کے قائل تھے کہ قرآن اپنے اندر جادو سے بھی زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔